Urdu Font Story دلہن کے روپ میں خوفزدہ ماں


 وہ دلہن کے روپ میں نہ جانے کب سے خوفزدہ بیٹھی ہوئی تھی۔کچھ دیر قبل ہی اس کا نکاح ایک ایسے شخص سے ہوا تھا جسے وہ جانتی بھی نہیں تھی اور اس نے کبھی اس کو دیکھا بھی نہیں تھا۔دیکھنا تو دور کی بات اسے تو اس کا نام بھی نکاح کے وقت معلوم ہوا جب قاضی نے اس سے اس کی رائے پوچھی تھی۔

وہ اس گھر میں آ تو گئی تھی لیکن اب اس کی ساتھ آگے کیا سلوک ہونے والا تھا یہ خدا ہی جانتا تھا۔وہ تو بس اتنا جانتی تھی کہ کچھ اچھا نہیں ہونے والا۔
وہ اپنے سوتیلے بھائی کے خون بہا میں آج ایک انجان شخص کے نکاح میں آئیں تھی۔سوتیلی ماں نے اسے اپنے بیٹے کی جان بچانے کیلئے روایتوں کی بھینٹ چڑھا دیا تھا۔
ماں تو سوتیلی تھی لیکن باپ تو سگا تھا۔دکھ تو اسے اپنے سگے باپ سے پہنچا تھا۔
حالانکہ کے باپ نے دوسری شادی کے بعد اس کے سر پر کبھی شفقت کا ہاتھ نہیں رکھا تھا۔لیکن پھر بھی اسے اپنے والد سے اس ظلم کی توقع نہ تھی۔
وہ پڑھی لکھی لڑکی تھی اس نے بی اے کیا تھا۔
لیکن یہ تعلیم بھی اسے نہ بچا سکی۔
وہ اپنی سوچوں میں مستغرق کے ایک دم دھڑام سے دروازہ کھلا۔
شاہ میر اندر داخل ہوا۔
شاہ میر نے اپنے گلے میں پہنا ہوا پھولوں کا ہار بے دردی سے نوچ پھینکا تو وہ دیکھ کر مزید خوفزدہ ہوگئی۔
شاہ میر چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا۔
کس نے تمہیں میرے کمرے میں بٹھا دیا؟... نکلو یہاں سے میں تمہیں اپنی نظروں کے سامنے برداشت نہیں کر سکتا تو میرے بھائی کے قاتل کی بہن ہو۔____ شاہ میر غصے سے دھاڑا اور اسے بازو سے کھینچ کر دروازے تک لایا۔
وہ بیچاری اپنی بے بسی پر ماتم کنہ تھی۔
اس نے دکھ اور کرب کے ساتھ ایک نظر اپنے شوہر پر ڈالی۔
شاہ میر سفید رنگ کے سوٹ میں سیاہ رنگ کا واس کوٹ پہنے بہت ہی وجیہ نظر آ رہا تھا لیکن اس وقت غصے سے بھرا ہوا تھا۔
شاہ میں نے اسے باہر برآمدے میں پٹخ دیا۔نیچے مٹی تھی وہ مٹی میں گر گئی۔
شاہ میر یہ کیا طریقہ ہے؟___ اس کی ماں ساجدہ نے کہا جو کہ باہر عورتوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔
اماں آپ نے اسے میرے کمرے میں کیوں بٹھا دیا میں اس کی شکل تک دیکھنا نہیں چاہتا۔____ شاہ میر نے غصے سے اپنی ماں سے کہا۔
وہاں پر موجود عورتوں نے دلہن کی شکل کی طرف دیکھا جو اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے حیرت سے سب کو دیکھ رہی تھی۔
اپنی جھیل سی آنکھوں اور مڑی ہوئی گھنی پلکوں کے ساتھ وہ سب کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ حسن کے تمام ہتھیاروں سے لیس تھی۔دھکا دینے کی وجہ سے اس کے سیاہ بال جوڑے سے کھل کر شانوں پر بکھر کر گئے تھے اس کا دوپٹا تو دروازے میں ہی اٹک کر اس کے سر سے اتر چکا تھا۔
اماں میں نے ابا سے کہا تھا مجھے قاتل کی بہن نہیں قاتل چاہیئے۔۔۔لیکن میری کسی نے نہیں سنی۔___ شاہ میر بولا۔
بیٹا یہ ہمارا نہیں سرداروں کا فیصلہ تھا اور سرداروں کا فیصلہ ہمیں ہر حال میں ماننا ہی تھا۔___ ساجدہ نے کہا۔
ہم سرداروں کے نوکر نہیں ہیں اماں۔۔۔ ہم بھی اچھے خاصے زمیندار ہیں بھکاری ہم بھی نہیں ہے کہ کسی کے آگے سر جھکائیں۔____ وہ چیخ کر بولا۔
بیٹا اس کے بھائی نے تمہارے بھائی کو جان بوجھ کر نہیں مارا وہ غلطی سے مرا۔کوئی قبائلی جھگڑا تو نہیں تھا ہمارا ان لوگوں کے ساتھ بس ایک غلطی تھی۔___ شاہ میر کی چچی سکینہ نے کہا۔
غلطی؟؟؟ اس کے بھائی نے میرے بھائی کے سر پر اتنی زور سے ڈنٹا مارا کہ وہ اسی وقت جاں بحق ہوگیا اور آپ کہہ رہی ہیں کہ یہ غلطی ہے؟ چاچی یہ غلطی نہیں یہ خون ہے خون۔___ شاہ میر کا غصّہ عروج پر تھا۔
ایمان ابھی تک مٹی میں گری پڑی تھی۔نا اسے اٹھنے کی ہمت ہو رہی تھی اور نہ کسی نے اسے اٹھانے کی زحمت کی تھی اب تک۔
یہ اس کی شادی کی پہلی رات تھی جس کے لئے لڑکیاں ہزاروں سپنے سجا کر اپنی پیا دیس سدھارتی ہیں۔اتنا برا سلوک کوئی دشمن نہیں کر سکتا ہے اور ہاں وہ دشمنوں کے پاس ہی آئی تھی۔
وہاں موجود ایک خاتون کو ترس آ گیا وہ اٹھی اور ایمان کو اٹھایا۔
شاہ میر تھوڑا خدا ترسی کرو۔خدا کے عذاب سے ڈرو بیٹا اس بچاری کا کیا قصور ہے اس سارے معاملے میں میں؟____ زرینہ بیبی نے ایمان کو اٹھاتے ہوۓ کہا۔
بس کردے زرینہ چاچی اگر آپ کا اپنا بیٹا اس طرح مارا گیا ہوتا تو آپ ایسا نہ کہتیں۔___ شاہ میر کہتا ہوا باہر نکل گیا۔
زرینہ نے ایمان کو دوسرے کمرے میں چارپائی پر بٹھا دیا۔
دیکھو بیٹا بھی اس وقت شامیر بہت غصے میں ہے۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کا غصہ کم ہو جائے گا۔وہ تمہارا شوہر ہے تم سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتا۔اور تم ہو ہی اتنی زیادہ خوبصورت کے وہ کسی نہ کسی دن تمہاری محبت میں ضرور گرفتار ہو جائے گا بس تمہیں ہمت نہیں ہارنی ہے۔____ زرینہ نے پیار سے سمجھایا۔
لیکن ایمان کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔وہ تو خوف سے اس قدر کانپ رہی تھی کہ اسے کوئی ہوش ہی نہیں تھا۔
زرینہ اسے کمرے میں بٹھا کر چلی گئی۔ اسے کسی نے پانی اور کھانے تک کا نہ پوچھا تھا اس کا گلا خشک ہو رہا تھا اسے پانی کی اشد ضرورت تھی اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا بھوک کے مارے اسے چکر آ رہے تھے۔
کافی دیر کے بعد سکینہ کو احساس ہوا۔تو ایمان کے لیے کھانا لے کر آئی۔
لڑکی کھانا کھالو تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔ہم بھی انسان ہیں ظالم نہیں ہیں۔ظلم تو ہمارے خاندان کے ساتھ ہوا تھا۔پر خیر اب حساب برابر ہو گیا۔___ سکینہ بیبی نے کہا۔
سکینہ بی بی کے جانے کے بعد اس نے نوالہ منہ میں لیا تو زندگی کا احساس ہوا۔بھوک بہت بری چیز ہے۔کھانا کھانے کے بعد اس میں کچھ توانائی آئی۔پانی بھی سامنے پڑا تھا اس نے پی لیا۔اب وہ سوچ رہی تھی کہ کیا اسے آج رات اس کمرے میں اکیلے سونا پڑے گا جس میں صرف ایک چارپائی رکھی ہوئی تھی اور ایک لحاف تھا۔
شاہ میر کے کمرے میں سونے سے زیادہ اسے یہاں سونا بہتر لگ رہا تھا۔اس کے دل میں شاہ میر کا خوف آج سے ہی بیٹھ گیا تھا۔اس طرح کا سلوک تو کوئی کسی جانور کے ساتھ بھی نہیں کرتا ہے جیسا اس کے شوہر نے اس کے ساتھ کیا۔
شاہ میر کی جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو آج ایمان کی ہمراہی پاکر ہواؤں میں اڑ رہا ہوتا کیونکہ وہ تھی اتنی پیاری پڑھی لکھی سلجھی ہوئی۔
وہ سوچتی سوچتی سو گئی۔
صبح سویرے ساجدہ نے آ کر اسے اٹھایا۔
اٹھو بی بی کام پر لگ جاؤ۔میں اکیلی بوڑھی عورت ہوں اس دن کے انتظار میں تھی کہ بہو آئے گی تو سارا گھر سنبھال لے گی۔بہو بھی آئی تو ایسے شخص کی بہن جس نے میری کوک اجاڑ دی۔ اٹھو اب کام پر لگ جاؤ۔کوئی من چاہی دلہن نہیں ہو تم جو اس طرح پڑی ہوئی ہو۔___ سجدہ کہہ کے باہر نکل گئی۔
وہ اپنا بھاری بھرکم فراک سنبھالتے ہوئے اٹھی جو اس کی شادی کا جوڑا تھا۔رات اسے لباس تبدیل کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔اس کے کپڑوں کا چھوٹا سا بیگ شاہ میر کے کمرے میں تھا۔اب اسے ہر حال میں یہ لباس تبدیل کرنا تھا کیونکہ اس بھاری بھر کم جوڑے کے ساتھ وہ کام نہیں کر سکتی تھی۔
اور اس کام کے لیے اسے شاہ میر کے کمرے میں جانا تھا ۔وہ یقینا اس وقت سو رہا ہوگا ایمان بےحد خوفزدہ تھی۔
وہ اٹھی اور آرام سے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا۔کمرے میں اندھیرا تھا۔تھوڑی دیر بعد کھڑکی سے آنے والی ہلکی سی روشنی میں بیگ نظر آگیا۔
شاہ میر بیڈ پر سو رہا تھا۔وہ آرام سے چلتی ہوئی بیگ تک آئی۔اس کی پوری کوشش یہی تھی کہ شاہ میر کی نیند خراب نہ ہو۔اگر وہ جاگ گیا تو ایمان کی شامت آجانی تھی۔
اس نے آرام سے سے بیگ اٹھایا اور کمرے سے باہر آگئی۔دل میں شکر ادا کیا کہ شاہ میر کی نیند خراب نہیں ہوئی تھی۔
وہ بیگ اٹھا کر واپس اسی کمرے میں چلی آئی۔جہاں اس نے رات بتائی تھی۔
اس نے ایک جوڑا نکالا اور پہن لیا۔پھر باہر آئی جہاں گھر کے باقی افراد چائے پینے میں مشغول تھے۔
وہ ان میں سے کسی کو بھی نہیں جانتی تھی۔
ساجدہ اس کی ساس ہے وہ اتنا جان گئی تھی۔باقی دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں اور ایک لڑکا۔اور سکینہ جو کے اس کے شوہر کی چچی تھی۔
جھاڑو اٹھاؤ اور صفائی شروع کرو۔___ وہاں پر موجود ایک لڑکی نے اسے آرڈر دیا۔وہ لڑکی صفیہ تھی اس کی چھوٹی نند۔جس کی عمر سولہ سال تھی۔
میں صفائی دیتی ہوں چائے پینے کے بعد اگر چائے نہ پی تو میرے سر میں درد ہو جائے گا اور پھر مجھ سے کوئی کام نہیں ہوگا۔____ ایمان نے ڈرتے ہوئے کہا۔
پیچھے سے شاہ میر بھی آگیا۔اس نے سن لیا۔
کوئی ضرورت نہیں ہے چائے پینے کی صفائی کرو۔___ اس کی دوسری نند عافیہ بولی۔
شاہ میر آرام سے چلتا ہوا باہر چار پائی پر آ کر بیٹھ گیا۔
اس نے ایک نظر ایمان پر ڈالی۔
وہ اب گلابی کاٹن کا سوٹ پہن ہوئے تھی۔ چہرے پر میک اپ کے مٹے مٹے اثرات تھے۔سیا لمبے بال ایک شانے کو جھول رہے تھے۔شاہ میر اک پل کو کھو سا گیا۔
اس کی سب سے خاص بات اس کی گھنی پلکیں تھی جو اوپر کو مڑی ہوئی تھیں۔اس کی جھیل سی آنکھیں اور گھنی پلکیں اس کے چہرے کا سب سے نوٹ کیا جانے والا حصہ تھیں۔
دے دو چائے اسے۔۔۔____ شاہ میر نے کہا تو ایمان حیران ہوئی۔



No comments:

Post a Comment